منگل 3 فروری 2026 - 22:16
شمعِ اُمید فروزاں

حوزہ/نیمۂ شعبان کی وہ مبارک شب، جس کی فجر نے طلوع کی آغوش میں آنکھیں کھولیں اور وادیٔ اُمید میں سرگرداں و حیران عالمِ انسانیت کے لیے ایک نویدِ مسلسل آئی۔ شجرِ شاخِ تمنائے بشریت پر منجیٔ عالمِ بشریت کی کلی مسکرائی، گلِ نرجس کی ایک ریم حقیقت پر، قُل کَفی کا وارث، ھل اَتی کا لعل، اِنَّما کا شہزادہ، فرشِ زمیں پر جبینِ اَمن کو خم کیا اور سر کو سجدۂ شکرِ ربِ جلیل میں جھکایا۔

تحریر: مولانا گلزار جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| نیمۂ شعبان کی وہ مبارک شب، جس کی فجر نے طلوع کی آغوش میں آنکھیں کھولیں اور وادیٔ اُمید میں سرگرداں و حیران عالمِ انسانیت کے لیے ایک نویدِ مسلسل آئی۔ شجرِ شاخِ تمنائے بشریت پر منجیٔ عالمِ بشریت کی کلی مسکرائی، گلِ نرجس کی ایک ریم حقیقت پر، قُل کَفی کا وارث، ھل اَتی کا لعل، اِنَّما کا شہزادہ، فرشِ زمیں پر جبینِ اَمن کو خم کیا اور سر کو سجدۂ شکرِ ربِ جلیل میں جھکایا اور عظمتِ ربِ ذوالجلال کا اقرار "سُبحانَ رَبِّیَ الاَعلٰی وَبِحَمدِہ" کی دلنشین آواز میں اس طرح کیا کہ شہرِ شغف میں شہنائیوں کی گونج سنائی دینے لگی۔ چاروں جانب سے شعور کی شاہراہوں پر شمعِ اُمید فروزاں کی جلوہ نمائی کا ابرِ کرم برسنے لگا۔

تین تین معصوموں کی حیات کے اہم ترین حصوں کو چلمنِ غیبت میں رکھ کر ملت کو غیبت کی عظمت اور انتظار کی عبادت سے روشناس کرایا گیا تھا۔ آج اس نقاب کشائی کا وقت تھا۔ ابنِ مشکل کُشا، ملتوں کی مشکلوں کے حل کے لیے زمینِ عین شین قاف پر اپنا پہلا قدم رنجہ فرما چکا۔ غدیر میں ہونے والے تکمیلِ دین اور اتمامِ نعمت کی تصویرِ حقیقت کو حکومتِ الٰہی کا لباس زیب تن کرنا ابھی باقی تھا، مگر مولودِ موعود کی ولادتِ باسعادت نے سب کے قلوب کی شمعِ اُمید کو روشن کر دیا۔

ہادیٔ دوراں، نائبِ یزداں، سلطانِ عصرِ رواں، رسولوں کے مقاصد کا نگہبان، الوہیت کی جانب سے ایک ارمغان، نازشِ زمین و سماں، مصداقِ قُل کَفی، مفہومِ اِنَّما، وارثِ ھل اَتی، کشتیٔ ہدایت کا ناخدا، مالکِ صبر و رضا، ہادمِ قصرِ ظلم و جفا، مجاہد فی سبیل اللہ، قلبِ رسول ﷺ کا چین، دلِ علیؑ و زہراؑ کا زیب و زین، منتقمِ خونِ حسینؑ، مظہرِ صفاتِ جلال و جمالِ پنجتن، بقیتہ اللہ الاعظم، پیکرِ حسنِ یوسف، سلطانِ عصرِ رواں، شہنشاہِ ہر دو جہاں، مشکل کُشاے انس و جاں، مظلوموں کی اُمید، شمع فروزاں، بے سہاروں کا سہارا۔

اس پردرد دنیا میں جہاں دہلی کی دہلیز پر ایک ماں شہید کی خاک مٹھی میں دبائے غداری کے الزام پر انصاف کی شکل میں موت طلب کر رہی ہے، رَکشَک ہی جب بھکشَک بن جائیں تو تمنائے انصاف کس سے؟ رہبر ہی رہزن بن جائے تو ایمان کی خوشبو کہاں سے محسوس کی جائے؟ جب خیانت کار دین کا لباس پہن کر کھلے عام گھوم رہے ہوں تو دینداری اور تحریکِ دیندار کی حسرتوں کا جنازہ کیوں نہ نکلے؟ جب غبن کا بازار گرم کر دیا جائے، جبر و ستم اپنے عروج پر ہو، استبداد کی شدت یہ ہو کہ لاشوں کو بھی کچلا جا رہا ہو، وہ بھی صحافت کے مقدس پیشہ کے قدموں تلے، زبان و بیان کی سودا بازی عام ہو چکی ہو، خطیب و خطابت سب کے دام لگائے جا چکے ہوں، ذکرِ مقدس پیشہ بن چکا ہو، تبلیغِ دینِ مبین آذوقۂ حیات کا ذریعہ بن چکا ہو۔

ڈگریاں خرید کر جب سماج میں لوگ مسیحا بنیں گے تو اسپتالوں میں علاج کے بجائے انسانی اعضاء و جوارح کی خرید و فروخت نہ ہوگی تو کیا ہوگا؟ رشوت کی بیساکھی سے انجینئر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایسے ہی پل بنائے جائیں گے کہ انسانیت اوپر نہ چلے بلکہ نیچے دب کر مر جائے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کا مقصد ملکوں کی تباہی، اقتدار کا مطلب ہوس رانی، بشریت کی چیخ و پکار، نوزائیدہ بچوں کا قتلِ عام، ملتِ ابراہیمی اور امتِ مسلمہ کا نرسنگ ھار، اجتماعی آبرو ریزی، بارود کا دھواں، پورے پورے شہروں کی عمارتوں کا ملبہ، موسمیات پر خواہشات کے قبضے سے مچا ہڑکنپ، رقص و سرور کی شب باشیاں، عربستان کے چمچماتے شہروں میں فرنگیوں کی عیاشیاں، عربوں کی مکاریاں، بے حیائیاں، صحافیوں کی بدکلامیاں، برسرِ عام بدتمیزیاں — اس دور کا کھلا ہوا طریقۂ کار ہے۔

ایسے میں اگر مہدویت کے عقیدہ نے شمعِ فروزاں کی اُمیدوں کو نہ جگمگایا ہوتا تو عالمِ انسانیت دم توڑ دیتی۔ جہاں تجارت کی آڑ میں خیانت، رشتوں کے پس منظر میں مطلب پرستی، عہدوں کی آڑ میں لوٹ کھسوٹ، غربتیں مکاریوں کا شکار، دولتیں تکبر کا آئینہ، طاقتیں چوہدراہٹ کا عنوان، قوتیں راٹھوڑی کا پرتیک، سیوہ میں میوہ کی طلب، عبادات میں ریاکاری — یہ وہ عجیب دور ہے جہاں چوری کرتے کرتے جب اذان کا وقت ہوا تو چور کے کھلے ہوئے ہاتھ بندھ گئے، نماز کے لیے کھڑا ہوگیا۔ صاحبِ خانہ نے چور کے رویہ کو دیکھا تو پوچھا: یہ کیا؟ چور بولا: چوری میرا پیشہ، نماز میرا فریضہ۔

جہاں ماہِ صیام میں ایک چھوٹا سا دوکاندار دوگنی تگنی داموں میں فروٹ بیچ کر نماز کی جلدی میں رہتا ہے، جہاں دودھ میں پانی نہیں بلکہ پانی میں دودھ ملایا جاتا ہے، وقف کی املاک پر قبضے۔ عجیب خبر سنی اس دور میں ہم نے کہ کسی عالی وقار بارگاہِ عصمت کا متولی سارا مال درگاہ کا لے کر فرار ہوگیا۔ اب اس دور کی کیا کیا صورتِ حال بیان کروں؟ خمس نہ دینا ایک جرم لیکن خرد برد کرنا اس سے بڑا جرم، خمس کی رقم پر پرسنٹیج کا بازار بنامِ دین گرم کیا جا رہا ہے۔ سہمِ امام کو بلا دلیل و برہان سہمِ مجتہد قرار دینا، دینی اداروں میں کھلم کھلا جھوٹ پر اشتباہ، خوردنی کا غلاف چڑھانا، متزوج کو اعزب قرار دے کر شہریوں میں مکاتب کا غبن، مرجعیت کے پہلو میں براجمان مکار وکیلوں کی عیاشیوں نے اس مقدس عہدہ کو بدنام کر دیا، اس کے خلوص کو نیلام کر دیا۔

رسم و رواج کے نام پر سماج میں بے دینی کا چلن، غیر مہذب تہذیبوں اور فرسودہ خیالات کو سماج میں ترویج دینا، ایمان کی آڑ میں بے ایمانی، کفر و شرک سے یارانہ، ارضِ توحید پر مشرکانہ تعمیرات، جن وادیوں میں قرآن کا نزول ہوا، آج وہاں طوائفوں کا ہجوم، شراب و کباب کی بزمِ طرب کی آبادی، مدحت کے اندر میوزک کی آمیزش، سوز میں ساز، آواز میں لحن کی سوداگری، قصائد میں تک بندی، شاعری کے نام پر چھیچھورا پن، محافل کا تقدس کامیڈی کے ذریعہ سے پائمال کیا جا رہا ہے۔ ایک ہنسانے والا اپنے اشارے کنایہ سے بزمِ عبادت میں قہقہوں کی گہماگہمی سے قدسیت کا جنازہ نکال رہا ہے۔ اشعار میں ادب کا دور دور تک پتہ نہیں، بحرِ ربڑ میں کی جانے والی شاعری کا اس سماج میں مقبول ہونا، اوزان سے ناواقف شاعر کا بے تکے اشعار سے محفل کو لوثنا، قوالیوں کو برسرِ منبر جواز کا لباس پہنانا، اپنی پرمپراؤں کو اذان اور نمازوں پر فوقیت دینا، منبروں سے نماز و روزے کا مذاق اُڑانا — کیا یہ سارے اعمال و افعال، حرکات و سکنات اس بات کے داعی نہیں کہ یہ سب کبھی بدلے؟ اسی تبدیلی کی تمناء کا نام شمعِ فروزاں کی اُمید ہے، اور اسی اُمیدِ مہدویت پر یہ دنیا قائم ہے، اور اسی سے مایوسی کا عقیدہ کفر سے عبارت ہے۔

دعا ہے بارگاہِ ربِ کریم میں کہ سلطانِ عصرِ رواں کے ظہور میں تعجیل فرما، اور ہمیں ان کے قدم بوسوں میں شریک فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

تمام اہل ولا کو مولا کی ولادت باسعادت بہت بہت مبارک ہو!

حوالہ جات

1. قرآن مجید: سورۃ القصص (28:5) – "اور ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پر جو زمین میں کمزور کر دیے گئے..."

2. قرآن مجید: سورۃ النور (24:55) – وعدۂ خلافت اور زمین پر حکومت۔

3. حدیث: "من مات و لم یعرف امام زمانہ مات میتۃً جاہلیۃ" (مسند احمد، حاکم، بیہقی)۔

4. حدیث مہدویت: "المہدی من عترتی من ولد فاطمۃ" (سنن ابی داؤد، کتاب المہدی)۔

5. زیارت جامعہ کبیرہ – اہل بیتؑ کے اوصاف و القاب۔

6. تاریخی ماخذ: شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمة؛ علامہ مجلسی، بحار الانوار، جلد 51-53 (باب الغیبة و الظہور)۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha